اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ریف حلب میں شامی افواج کی بڑی کامیابی اور خناصر کو آزاد کرانےکے بعد مسلح دہشت گردوں نے اس علاقے کو دوبارہ کنٹرول میں لانے کے لئے کاروائی کی لیکن انہيں شامی افواج کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنے کے بعد پسپا ہونا پڑا۔ اس حملے کے دوران درجنوں دہشت گرد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ نیز شامی افواج نے ریف حلب میں واقع دیر حافر، عبطین، اللیرمون، الجبول جھیل، تل عرن، الرضوانیہ، شہر السفیرہ، کفر حمرا، اور شریع نامی گاؤں کے قریب کاستلو میں دہشت گردوں کی گاڑیوں کے قافلوں کو تباہ کیا۔ ان گاڑیوں میں ہتھیار اور گولہ بارود بھرا ہوا تھا۔ دریں اثناء حلب قدیم کے علاقے میں جامع مسجد اموی کے اطراف میں بعض دہشت گردوں نے دراندازی کی کوشش کی اور سرکاری افواج نے ان میں متعدد افراد کو ہلاک اور زخمی کردیا۔ شامی افواج کے مجاہدین نے الارمن کے علاقے میں متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور صلاح الدین کے علاقے میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کی کوشش ناکام بنائی اور جامع مسجد بلال حبشی اور مکی عمارت کے قریب متعدد عمارتوں پر کنٹرول حاصل کیا اور اس عمارتوں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جن میں ترک دہشت گرد عبدالمنیم حسین نیز صالح محی الدین، محمد خیرالغانم، احمد مصطفی اور محمد الحمصی کی شناخت ہوسکی ہے۔ لاذقیہ کے نواح میں الناجیہ نامی گاؤں کو دہشت گردوں سے چھڑانے کے لئے سرکاری دستوں کی کاروائی کے دوران جبہۃالنصرہ کے 32 افراد ہلاک اور 41 زخمی ہوئے ہیں۔ ہالکین میں سے "ثائر السید علی" کا تعلق مصر سے تھا۔ الدرہ نامی گاؤں میں فوجی دستوں کی کاروائی میں جبہۃالنصرہ کے 39 عناصر ہلاک اور 35 زخمی ہوگئے جن میں مصری شہری احمد عبدالرحمن، سفیان ابوالعاطی، بکر السید خالد، خالد الدہشوری اور عثمان ابوالربیع کی شناخت کی گئی ہے۔ عجب یہ کہ جبہۃالنصرہ کے ٹھکانے پر حملے کے دوران "دولۃالاسلامیۃ في العراق والشام (داعش)" کا ایک ایک اعلی کمانڈر عتمان ابوالربیع بھی مارا گیا ہے۔ جبکہ ان دو گروپوں ميں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ الربیعہ کے علاقے میں بھی فوج نے دہشت گردوں کی دو گاڑیوں کو تباہ اور 39 دہشت گرد ہلاک اور 19 زخمی کردیا ہے۔ ہلاک شدگان میں داعش کا ایک اعلی کمانڈر "ابوالخطاب الانطاکی" بھی شامل ہے۔ لاذقیہ کے نواحی گاؤں "دروشان" میں 9 دہشت گردوں کو ہلاک اور 32 کو زخمی کیا گیا ہے۔ ہلاک اور زخمی غیر ملکی تھے۔ صوبہ القینطرہ میں بہت کثیر تعداد میں مسلح افراد ہلاک کئے گئے ہیں جن کا تعلق شام سے باہر عرب اور غرب ممالک سے ہے۔ ہلاک شدگان میں چیچن دہشت گرد عبداللہ عبودہ عطیف، لیبیائی دہشت گرد صالح عبدالرحمن الغدامسہ، الجزائری دہشت گرد حسام الدین ودہ، سعودی دہشت گرد عبدالرحمن المسفر اور عراقی دہشت گرد عدی عبود الرضی شامل ہیں۔العالم نے رپورٹ دی ہے کہ شامی افواج نے داریا، العمضمیہ، برزہ، القابون اور جوبر میں دہشت گرد تنظیم النصرہ کے خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر لاتعداد دہشت گردوں کو ہلاک اور زخمی کیا۔ اس رپورٹ کے مطابق سرکاری دستوں نے دمشق کے نواح میں ـ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے حرم کے قریب ـ الذیابیہ اور الحسینیہ کا کنٹرول ایک بار پھر سنبھال لیا ہے جو سرکاری افواج کے لئے ایک بڑی حصول یابی قرار دی گئی ہے۔ ان علاقوں میں سرکاری افواج نے فوج کی پیشقدمی روکنے کے لئے رکھے گئے کئی بموں کو ناکارہ بنایا اور مارٹر گنوں کے چند مورچوں کو تباہ کرکے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ اس کاروائی کا مقصد دمشق شہر اور ہوائی اڈے کے درمیان راستے اور سیدہ زینب(س) کے محلے کا تحفظ بتایا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق دہشت گرد ٹولے الذیابیہ اور الحسینیہ کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کے منبع کے طور پر استعمال کرکے دمشق کے مغربی نواح علاقوں پر حملے کیا کرتے تھے جن میں فلسطینیوں کا یرموک کیمپ، داریا اور المعضمیہ شامل ہیں۔ اور دہشت گرد ان ہی علاقوں سے حرم سیدہ زینب (س) پر مارٹر حملے کرتے تھے تاہم سرکاری افواج نے ان دو علاقوں کو خالی کرایا اور میدان حجیرہ اور السبینہ کے علاقے تک دہشت گردوں کا صفایا کردیا۔ اور دمشق کے جنوبی نواحی علاقوں میں دہشت گردوں کی بیخ کنی تک کاروائی جاری رہے گی۔ دوسری جانب سے سرکاری افواج نے دمشق کے شمالی نواحی علاقوں برزہ، القابون اور جوبر میں اپنی کاروائیوں کو شدت بخشی ہے اور دہشت گرد تنظیم جبہۃالنصرہ کے متعدد خفیہ ٹھکانوں پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔ جوبر میں میدان المناشیر کے قریب شدید جھڑپیں ہورہی ہیں اور مغربی نواح میں المعضمیہ اور داریا میں جبہۃالنصرہ کے کئی ٹھکانوں پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔ ادھر دہشت گرد ٹولوں کے درمیان بھی اختلافات نے شدت اختیار کی ہے اور داعش نامی وہابی دہشت گرد ٹولے نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام میں جبہۃالنصرہ کو مزید امداد فراہم نہیں کرے گا۔ کہا جاتا ہے کہ داعش (دولۃالاسلامیۃ في العراق والشام) اور جبہۃالنصرہ دونوں رقیب دھڑوں کا تعلق القاعدہ سے ہے اور دونوں سعودی عرب کے زیر سرپرستی دہشت گردی کررہے ہیں لیکن کچھ عرصے سے ایک ابہام چلا آرہا ہے کہ جبہۃالنصرہ کو گوکہ سعودی عرب کی امداد ملتی ہے لیکن اس کا تعلق در حقیقت اخوان المسلمین سے ہے اور اس سلسلے میں ابنا نے بھی رپورٹیں دی ہیں اور ترکی کی طرف سے جبہۃالنصرہ کی حمایت نیز سعودی عرب کے زیر سرپرستی داعش کے ساتھ اس کے اختلافات بھی اسی امکان کو تقویت پہنچاتے ہیں کہ ان کے درمیان فکری اختلاف پایا جاتا ہے۔ بہرحال ذرائع کے مطابق القاعدہ سے وابستہ ان دو تنظیموں کے درمیان اختلافات آشکار ہورہے ہیں جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شام میں ان دو تنظیموں کے اہداف و مقاصد مختلف ہیں۔ اسکائی نیوز کے مطابق، شمالی علاقوں میں داعش اور النصرہ کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں اور ان دو تنظیموں کے درمیان اختلافات حالیہ مہینوں میں دوچند ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں جمعرات (10 اکتوبر 2013) کو داعش نے النصرہ کے ساتھ اپنے تعلقات اور تعاون ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے حال ہی میں داعش کو زيادہ مالی اور عسکری وسائل فراہم کئے ہیں اور اس کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق مختلف تنظیموں کی مدد کریں لیکن اپنی فوقیت برقرار رکھیں جس کے بعد داعش نے مختلف محاذوں پر امریکی حمایت یافتہ گروپ "فری سیرین آرمی" کو شکست دی ہے اور اس گروپ کے سینکڑوں افراد کرد مدافعین کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں تاکہ داعش کے حملوں سے بچ سکیں۔ داعش کو سعودی امداد کے علاوہ عراق اور شام میں تیل کے ان کنؤوں سے بھی کافی آمدنی حاصل ہورہی ہے جن پر انھوں نے کنٹرول حاصل کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شام کے علاقوں الرقہ اور دیر الزور میں کئی آئل فیلڈز پر داعش کا قبضہ ہے اور ان کا تیل یورپ کو برآمد کیا جارہا ہے۔................../*.*
شام کی تازہ ترین خبریں؛
خناصر پر دہشت گردوں کاناکام حملہ/ مختلف علاقوں میں فوجی کاروائیاں، سینکڑوں دہشت گرد ہلاک
9 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 471252
ریف حلب نے خناصر کے آزادہ شدہ سوق الجیشی علاقے الخناصر پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کی جو ناکام ہوئی اور متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے نیز دوسرے علاقوں میں ہونی والی سرکاری افواج کی کاروائیوں میں بھی سینکڑوں دہشت گرد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں/ داعش نے جبہۃالنصرہ کے ساتھ تعاون ختم کرنے کا اعلان کیا۔